موت ہی اپنی راہیں بناتی رہی

صحن جاں کے لئے ایک جھونکانہ تھا
باد صرصر دیوں کو بجھاتی رہی
فصل گل کو نہ اذن سفر مل سکا
اور آندھی قیامت مجاتی رہی
پانہ زنجیر کردی گئی روشنی
ظلمت شب سیاہی بڑھاتی رہی
راہ میں لٹ گیا خواب کا کارواں
رہزنی منزلیں اپنی پاتی رہی
پھر گئے دور کی ابتدا ہوگئی
کل مرے شہر میں انتہا ہوگئی
No comments:
Post a Comment