صاحبو، آپ یقینا اس روایت کی صحت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرسکتے ہیں، خاص کر راوی کے ثقّہ ہونے یا نہ ہونے پر کہ یہ اس ناچیز کی روایت ہے۔ لیکن آپ لیلٰی کو تو یقیناً جانتے ہونگے؟ ارے ہاں وہی مجنوں کی لیلٰی جو سربازار پہنچ کر یہی کہتی تھی کہ
کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو
آپ یہ پوچھنے میں حق بہ جانب ہیں کہ کوئی آخر کیوں نہ پتھر مارے کسی بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے کو؟ اب اس پر کیا کہیں کہ "دیوانے کی حقیقت لیلٰی کے دل سے پوچھ۔ ویسے بھی محبت میں محبوب کے سات خوب بھی معاف ہوتے ہیں۔ لوگ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ لیلٰی مجنوں کے فسانے میں عمران ہاشمی کا بھی کوئی کردار ہے کہ نہیں؟ تو مجھے کیا پتہ میں ٹھرا ایک پاک دامن مشرقی بندا، جائیں جاکر لیلٰی سے پوچھیں۔
ابھی کل ہی کی بات ہے، ایک مشہور و معروف روشن خیال آپا کا بلاگ پڑھتے ہوئے مجھے لیلٰی اور اس کے دیوانے کا خیال آیا۔ اپنے دفتر میں دنیا کی گھٹیا ترین چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میں نے اپنی ساتھی خاتون سے بلاگی لیلٰی اور انکے دیوانے کا ذکر کیا تو موصوفہ سوچ کے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گئیں۔ بڑی مشکلوں سے انہیں واپس کھینچا تو ان الفاظ میں گویا ہوئیں کہ بھائی یہ نام نہاد روشن خیالی کا مرض تو بڑا پرانا ہے۔ اب ہم کیا بتائیں کے لفظ بھائی سن کر ہمارے دل پر کیا گذری؟ بڑی مشکل سے اپنے غصے کو قابو میں کیا اور پوچھا کہ محترمہ آپ کی آئیڈیل خواتین کون سی ہیں۔ اتنا سنتے ہی کسی شدت پسند کی طرح شروع ہوگئیں اور اسلامی تاریخ کے ہر روشن ستارے کا نام لینے لگیں۔ ہم نے فوراً خاموش کرایا اور پوچھا کہ اندرا گاندھی اور بینظیر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یہ کراچی کی فلاں بلاگر کی بھی آئیڈیل ہیں۔ اتنا سنّا تھا کہ غصے کی شدت سے ان کی آنکھیں باہر ابل پڑیں، کہنے لگیں کہ "ہاں جی جب انکے لندنی پیر دلّی جاکر پاکستان کے قیام کو ایک غلطی قرار دے سکتے ہیں تو ان کے مریدوں کا پاکستان دولخت کرنے والوں کو آئیڈیل بنانا کوئی انہونی نہیں ہے۔ رہی بات بینظیر کی تو کرپشن کی ملکہ کی کیا بات کرتے ہو؟ ان دہریوں کے نزدیک تو حرام کمانے والا ہی کامیاب ہے۔ ہم نے ترحم آمیز نظروں سے انہیں دیکھا اور کہا "تعلیم آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، ایم فل کی ڈگری ہاتھ آنے والی ہے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اتنا کہتے ہی ہم میدان چھوڑ کر بھاگ گئے کیونکہ نہ بھاگنے کی صورت میں اندیشہ ہائے نقص امن تھا۔
دفتر سے گھر کی طرف آتے ہوئے راستے میں مولوی مدن سے ملاقات ہوگئی، ہم نے آواز لگائی "مولوی صاحب خیر تو ہے"؟
رسوا رسوا سارے زمانے
تیرے قصّے، تیرے فسانے
یہ سن کر مولوی مدن نے مشکوک نگاہوں سے ہمیں دیکھا۔ ہم نے انہیں مختلف بلاگز پر ہونے والے اُنکے ذکر شر سے آگاہ کردیا۔ ساتھ ہی مساوات مرد و زن پر ایک چھوٹا سا لیکچر بھی پلادیا اور دنیا کی کامیاب خواتین کی ایک فہرست بھی انہیں تھمادی۔ اتنا سنتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ گئے۔ ہم اس ساری صورتحال کے لیے پہلے سے تیار تھے لہذا انہیں کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیا اور قریب ہی چھپڑ ہوٹل کی کرسیوں پر بیٹھ کر دو گلاس مشروب مشرق یعنی لسّی کا آرڈر دیا۔ ٹھنڈی ٹھار لسّی کو گلے سے اتار کر ہی کچھ کہنے کے قابل ہوئے اور یوں گویا ہوئے:
دیکھ بھئی یہ عورت اور مرد کی مساوات تو ایک وہم کے سوا کچھ نہیں۔ جو خواتین اس قسم کے وہم میں مبتلا ہوں تو ان کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسئلہ، کوئی احساس محرومی ضرور ہوتی ہے۔ نہ تو مجھے یہ بتا کہ ان عورتوں نے اب تک کون سا تیر مار لیا ہے اوئے؟ زندگی کے ایک پہلو میں عورتیں کمزور ہیں اور مرد بڑھے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے پہلو میں مرد کمزور اور عورتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ اوئے تم غریب عورتوں کو اس پہلو پر مردوں کے مقابلے پر لاتے ہو جس میں وہ کمزور ہے۔ اس کا نتیجہ یہی نکلنا ہے کہ عورتیں ہمیشہ مردوں سے کم تر ہی رہیں گی خواہ کتنی ہی تبدیریں کرلو۔ ابے یہ ممکن ہی نہیں کہ عورتوں کی صنف سے ارسطو، ابن سینا، کانٹ، ہیگل، خیام، شکسپیر، سکندر، نپولین، صلاح الدین، طوسی اور بسمارک کی ٹکر کا ایک فرد بھی پیدا ہوسکے۔ البتہ تمام دنیا کے مرد چاہے کتنا ہی سر مار لیں، وہ اپنی پوری صنف میں سے ایک معمولی درجے کی ماں بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ نام نہاد مساوات مردو زن کے حامی خواتین و حضرات دراصل ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ اصل وجہ عورت کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کروانا نہیں ہے۔ مختصراً یہ کہ پونڈی کرنے کے لیے انارکلی نہ جانا پڑے، وہ ڈاکٹر کے کلینک سے لے کر پی سی او تک ہرجگہ وافر دستیاب ہو۔
ہماری روشن خیال خواتین یعنی آنٹیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ خود تو سارا دن دفتروں اور این جی اوز میں شمع محفل بنی رہتی ہیں۔ اور انکے پیچھے انکے ممی ڈیڈی بچے عمران ہاشمی اور منّی کا کرداریوں ادا کررہے ہوتے ہیں کہ سارا محلہ اس کا گواہ ہوتا ہے۔ پھر اس روشن خیالی کے نتیجے میں جو گُل کھلنے والا ہوتا ہے تو پھر باہمی مشاورت سے لیڈی ڈاکٹر کے کلینک کا رخ کیا جاتا ہے خون ناحق کے لیے۔ تو بھائی اس سب میں مولوی مدن کا کیا قصور؟
انکی لمبی چوڑی تقریر سن کر ہم نے کہا کہ قصور تو ہے۔ اگر آپ یہ سب کچھ حلوہ حلق سے نیچے اتارے بغیر کہہ دیتے تو کوئی قصور وار نہ ٹھراتا۔ بس جی اتنا سنتے ہی غضبناک ہوکر ہماری طرف بڑھے اور ہماری گردن دبوچ لی۔ ہم اپنی گردن ان کے چنگل سے آزاد کروانے کے چکر میں کرسی سے نیچے گرپڑے۔ اور پھر ہماری آنکھ کھل گئی۔ معلوم ہوا کہ شیر اسامہ بن لادن کا یہ شیدائی نیند میں مولوی مدن سے ڈر کر پلنگ سے نیچے آگرا تھا۔۔۔۔۔
ہا ہا ہا ہا
ReplyDeleteبہت خوب اور غیر متوقع اختتام کیا ہے مولوی مدن.
اب تو بچ بچو
ReplyDeleteمیں نے تو دو ایک سال پہلے لکھ دیا تھا کہ اس سارے ڈفانگ کی وجہ "احساس کمتری" ہے جسکا علاج مریض کو خود کرنا ہے اور وہ ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا. بس فیر مجھے ڈھائی درجن مزید احساس کمترانہ پوسٹوں کا سامنا کرا پڑا تھا.
* جہاں جہاں اعراب لگائے وے وہ لفظ ٹوٹے وے نظر آرے گول دائرہ اور ساتھ اعراب، وجہ پتہ نی کیا ہے
بہت اعلیٰ جناب .... :lol: :lol: :lol:
ReplyDeleteماسی مصیبتے، عاصی میراثی اور بارہ سنگھا کی اس تکون کو جس طرح آپنے آشکار کیا ہے، اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا...
"بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ " والے محاورے پر بھی آپ بازی لے گئے ....اس محاورے کو لیکر ایک پوسٹ داغنے کا پروگرام کئی دنوں سے بنا رہا تھا کافی جملے ترتیب دے دیے تھے...لیکن اب کوئی فائدہ نہیں..
ماسی مصیبتے اور مولوی مدن کے کردار خوب آئے ہیں...آپ دیکھیے گا کہ ان کرداروں پر لوگ باگ کس طرح اپنی ادبی اور میں اپنی بے ادبی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتا ہوں. :D
پونڈی کا لفظ بالکل نیا ہے میرے لیے لہٰذا اس پر مذید روشنی ڈالی جائے...
دعا ہے کہ پوسٹ سے پوسٹ بڑھتی رہے اور طبعیت کو اسی طرح راحت ملتی رہے...
ہر بلاگ پر انہی کا ذکر ہے خدا نہ کرے کہ کم ازکم موسی جی بلاگ لکھنا ہی چھوڑ دیں. پھر کیا کریں گے؟
ReplyDeleteرہی بات مولوی مدن کی تو وہ کم ازکم بھاگنے والوں میںسے نہیں ہیں. وہ پکے ڈھیٹ ہیں اور موقع پر لتاڑنا ان کی مجبوری ہے. اگر بلاگ کی تاریخ پاکستان میں لکھی جائے گی تو ان دونوں کرداروں کا اس میں خاص حصہ ہوگا.
جواد صاحب : بہتر ہو گا +پ جیسے شریف شرفا اس لفظ کے پیچھے نہ پڑیں اور اپنا علمی و قلمی جہاد جاری رکھیں. یہ کام گنہ گاروں کے لئے چھوڑ دیں.
ReplyDeleteسائیں۔۔۔ میرے پاس تو الفاظ کا ذخیرہ ہی نہیں کہ آپ کی اس تحریر کی تعریف کر سکوں۔۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔ اللہ نظرِبد سے بچائے۔۔۔
ReplyDeleteماسی مصیبتے اور ان کے چیلوں پر کیا گزرے گی یہ تحریر پڑھ کر۔۔۔ اس کیفیت کا تخیل ہی مجھے لوٹ پوٹ کر رہا ہے۔۔۔۔
آپ فورا سے پہلے خود کے لیے ایک بکرا صدقہ کریں۔۔۔ اور کوشش کیجیے گا کہ اس کی کھال ایم کیو ایم کو ملے۔۔۔ گوشت ماسی مصیبتے کے گھر پہنچا دیں۔۔۔ تا کہ ان کو بھی کچھ تسلی ہو۔۔۔ ویسے بھی بارہ سنگھا کافی بھوکا لگ رہا ہے آج کل۔۔۔
باقی تبصرہ۔۔۔ فون پر۔۔۔ انشاءاللہ
ساءیں۔۔۔ یہ لکھنا تو بھول ہی گیا۔۔۔ Classic...
ReplyDeleteبہت خوب!
ReplyDeleteیہ روشن خیالی کا دروہ پڑنے والوں کو جو مولوی سے چڑ رہی ہے۔ امید ہے اب انھیں خواب میں بھی مولوی مدن نظر آئیں گے۔
حد ہے۔ ملک مسلمانوں کا اور تاریک باطناں اوپر سے لیکر نیچے تک منافقتاں منافقتاں کرتے مسلموں کو ہی دھوکہ دینے کے چکر میں ہے کہ مسلمانوں نے اپنی زندگی اب کیسے گزارنی ہے۔ جیسے یہ ہماری قوم پہ "گیٹ کیپر" ہوا کرتے ہیں۔
بھائی ہمیں مولوی ، ٹوپی، مصلے ، مسجد، قرآن کریم اور اسلام سے پیار ہے۔ اب جس کے دل میں مروڑ اٹھتا ہے اٹھا کرے۔
جعلی روشن خیالی، جعلی لوگ، جعلی نظریات، جعلی فلسفہ۔ مگر انکو وہ نہیں آتی ۔۔ بس وہ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا
ReplyDeleteبہت زبردست
بھئی اوپر نیچے دوتین مزاحیہ تحریریں پڑھیں
تھکاوٹ کم ہوئی اور اس تحریر نے بالکل ہلکا پھلکا کر دیا۔
آج یہاں ایک قریبی گاؤں میں ایک بڈھا بابا اپنی پچیس سالہ بیوی کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا۔ اس واقعہ پر علاقے کے تمام عمران ہاشمیوں نے مسرت کا اظہار کیا اور قاتلہ کی حرکت کو سراہا۔
ReplyDeleteتم تنگ نظر مولوی جتنی مرضی جلی کٹی لکھتے رہو، محبتوں کے کارواں کبھی نہیں رکنے والے! :lol:
:-) :-) :-) :P :P
ReplyDeleteتعریف کا شکریہ مرشدی۔۔۔۔ :wink:
ReplyDeleteحیرت ہے، تو نے سال پہلے ہی تشخیص کرلی تھی لیکن علاج مریض نے خود ہی کرنا ہے۔ خیر مسئلہ ای کوئی نہیں۔ اسیں وی ڈھیٹ ہیں۔۔۔ :lol:
ReplyDeleteجواد بھائی ہم تو پہلے ہی معترف ہی آپ کی صلاحیتوں کے۔ ہم منظر ہیں آپکی بے ادبیوں کے۔ لفظ پونڈی کے بارے میں میں کچھ کہہ نہیں سکتا، ناااااااااا، ڈاکٹر منیر عباسی کے مشورے پر عمل کریں۔ :wink:
ReplyDeleteشازل بھائی اگر ایسا ہوجائے تو پھر بھی فکر ناٹ، ہم کوئی دوسرا بہانہ ڈھونڈھ لیں گے لہو گرم رکھنے کا۔ :wink:
ReplyDeleteحضور آپکی تعریف نے تو ہمارے تخیل کو مزید بلندیوں پر پہنچادیا ہے۔
ReplyDeleteویسے میں کھال ایم کیو ایم کو اسی صورت میں بخوشی دونگا جب قربانی باراسنگھے کی کرونگا۔۔۔۔ :lol:
بہت خوب گوندل صاحب، اب جس کے دل میں مروڑ اٹھتا ہے تو اٹھا کرے، ہم نے تو باز نہیں آنا۔۔۔
ReplyDeleteپیر صیب یہ کیا صرف چند الفاظ پر مشتمل تبصرہ، لگتا ہے آج کل کچھ زیادہ ہی مصروفیت ہوگئی ہے۔ :mrgreen:
ReplyDeleteاو بھائی ہمارا نہیں تو اپنے بڑھاپے کا ہی کچھ خیال کیا ہوتا۔ :wink:
ReplyDelete:twisted: :twisted: :twisted: :twisted:
ReplyDeleteبلاتبصرا
ReplyDelete:lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol:
یار وقار دیکھ اب بلاگر آنٹی سے صلح کرلے، بول تو کینیڈا سے سفارش لگواوں ؟؟؟؟
اوئے کون بلاگر آنٹی؟ میں کسی آنٹی وانٹی کو نہیں جانتا نہ میرا کسی سے کوئی پھڈا ہے تو صلح کس سے کروں اوئے؟ تو تو جانتا ہے میں صدا کا صلح جُو اور انتہائی شریف النفس بندا ہوں. اور تو سفارش کی بات کر رہا ہے تو چل اسی بہانے ان سے بھی بات چیت ہوجائے گی ورنہ وہ تو اب ہمیں لفٹ ہی نہیں کرواتے.... :wink:
ReplyDeleteاچھی تحریر ہے
ReplyDelete