میں ہوائی اڈے سے متصل ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھا اپنے آئندہ سفر کے لائحہ عمل پر سوچ رہا تھا کہ اچانک مجھے منفی 35 درجہ حرارت میں بھی شدید گرمی کا احساس ہوا۔ میں نے خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ کہیں حرارت ایمانی سے سرشار مرد مومن تو یہاں نہیں پہنچ گئے؟ لیکن یہ دیکھ کر اطمینا ن ہوا کہ نہیں انٹارکٹیکا ابھی ان کی دسترس سے باہر ہے ، معلوم ہوا کہ درجہ حرارت ریسٹورنٹ میں چلنے والے ہیٹر کی وجہ سے بڑھ گیا تھا۔ میں نے قریب سے گذرنے والے ویٹر کو بلایا اور اس سے ہیٹر کا تھرمواسٹیٹ کم کرنے کو کہا۔ لیکن میرے اشاروں کے باوجود وہ کچھ بھی نہ سمجھ پایا۔ میں نے مدد کے لیے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی اسے انٹارکٹیکائی زبان میں میرا مدعا سمجھا دے۔ اسی دوران میری نظریں ڈاکٹر ڈینگا سے چار ہوئیں۔ ڈاکٹر صاحب پینگوئن کی افزائش نسل اور فیمیل پینگوئن پر اس کے اثرات پر تحقیق کرنےکے لیے ہر سال موسم سرما میں یہاں آتے ہیں۔ وہ فورا میری مدد کو آگے بڑھے یوں منفی 35 درجہ حرارت میں بھی شدید گرمی سے جان چھوٹی۔تھوڑی دیر بعد ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر نکل کرمیں سڑک کے کنارے کھڑا ٹیکسی کا انتظار کرنے لگا۔ برف سے بنی شیشے کی طرح چکمدار سڑک تھی ہر طرح کے داغ دھبوں کے بغیر۔میں نے دل ہی دل میں یو۔ این۔ او کا شکریہ ادا کیا جو ان جاہل اور اجڈ پاکستانیوں کو یہاں کا ویزہ نہیں دیتے ورنہ یہ سڑک بھی پان کے پیکوں سے رنگین ہوتی یا پھر خون سے۔ آس پاس نظر دوڑانے سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کو برف کی انتہائی دبیز تہہ سے ڈھانپ کر پردے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بہت افسوس ہوا کہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رجعت پسندانہ نظریات یہاں بھی پہنچ گئے تھے۔ بہت دیر گذرنے کے باوجود بھی جب کوئ ٹیکسی نہیں آئی تو میں دوبارہ ہوائی اڈے کی عمارت میں گیا ، پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہاں کوئی ٹیکسی سروس نہیں ہے۔ مجبورابرفیلی گاڑی [آئس ویہیکل] کرائے پر حاصل کی ،اپنا قطب نما نکالا اور پھر جنوب مشرق کی سمت 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لیے برفیلی گاڑی کے انگیشن میں چابی گھمادی۔۔۔
.
بقیہ اگلے شمارے میں۔۔۔
نوٹ: یہ سفر نامہ ٹائم میگزین کے ان وزیبل شمارے میں شائع ہوا۔۔۔
انٹارکیٹکا میں بارہ سنگھے ہوتے ہیں؟
ReplyDeleteاگر ہاں تو ان کی تصویر لگانی تھی
یہ برفیلی گڈی کیا آئس کریم کی طرح ہوتی؟
ReplyDeleteسانتا کلاز کی طرح چاند گاڑی کے آگے بارہ سنگھے باندھ لیتے نا۔ :D :D :D
وہاں ملائی کی برف جسے اب ہم آئس کريم کہتے ہيں بنانے ميں تو کوئی دقت نہ ہوتی ہو گی ؟ دودھ ملائی ميں چينی گھول کر پيالی ميں ڈالی اور سڑک کے کنارے رکھ دی ۔ ملائی کی برف تيار ۔ کھايئے اور موج اُڑايئے
ReplyDeleteبرفیلی گاڑی فور وہیلر تھی کیا؟
ReplyDeleteفور وہیلر تو سمجھتے ہوں گے نا آپ؟
بہت خوب۔ پچھلے سال جو آپ نے چاند اور مریخ کا سفر کیا اس کا سفر نامہ کب لکھ رہے ہیں آپ؟
ReplyDeleteانٹارکیٹکا میں "موج میلہ" کا بندوبست کیا ہے؟۔ رات ہوتے ہی "زلف کے پریشان "ہونے کی واردات کو کیا نام دیا جاتا ہے؟۔ ہم پیالہ و نوالہ باہم خلط ملط ہونے پہ "دائیں بازو" کے احتجاج کا کوئی شائبہ تونہیں؟۔
ReplyDeleteنیز کیا نام نہاد روشن خیالی کے نام پہ پاکستان میں رائج فیشن کی طرح انٹا کٹیکا کے وسائل کو "گھر کی مرغی" سمجھا جاسکتا ہے۔تفضیلات درکار ہیں۔
جعلی تفاخر اور فضول ضد پہ واہ واہ کرتے :شاگرد عزیز" اور خود سے کہی اور لکھی "گمنام" قسم کی خوشامدوں اور چاپلوسیوں بارہ سنگھے داد تحسین کے ڈونگرے برساتے ہیں یا نہیں ؟۔
آخر میں ایک اہم سوال ہے کیا انٹا کٹیکا میں جھاڑیاں ہوتی ہیں یا نہیں اور بارہ سنگھوں کو جھاڑیوں میں سینگ پھنسانے کی جبلت پہ ان کی پیٹھ ٹھونکے پہ کوئی قدغن تو نہیں۔
مزید سوالات آپ کے جوابات آنے تک موقوف کرتا ہوں ۔
جواب کا منتظر۔
اگلی قسط کا انتظار رہے گا
ReplyDeleteحضور دراصل یہاں پینگوئن کا ذکر آیا تھا اس لیے یہ تصویر لگادی. اگلی اقساط میں باراسنگھوں کے ساتھ ٹاکروں کی تفصیل کے ساتھ تصاویر بھی پیش کی جائیں گی. :wink:
ReplyDeleteآئس کریم تو نہیں ہاں گولا گنڈا تو کھایا ہوگا آپ نے؟ بس ویسی ہی ہوتی ہے.
ReplyDeleteجناب یہ تو آغازتھا، چاندگاڑی کا استعمال آگے آئے گا.. :mrgreen:
جناب بنانے میں تو کوئی دقت نہیں ہوتی لیکن دودھ کا انتظام کرنا عیاشی سے کم نہیں. باراسنگھے یا سنگھی وافر دستیاب ہوتے ہیں. اب پتہ نہیں ان کا دودھ حلال ہے یا حرام :mrgreen:
ReplyDeleteاو جی سب باتیں تو بتانے کی نہیں ہوتی نہ، سمجھا کریں... :wink:
ReplyDeleteیہ تو سیکرٹ مشن تھا. آپ کو اس کی خبر کیسے ملی؟ آپ ناسا میں تو نہیں ہوتے؟ :lol:
ReplyDeleteبلاگ پر خوش آمدید جناب. آتے جاتے رہیےگا، بس کچھ ہی ساعتیں ہیں انتظار کی... :D
ReplyDeleteجناب موج میلہ کا بندوبست کہاں نہیں ہوتا؟ بس بندہ قیمت اداکرنے والا ہو تو کسی چھوٹے سے اگلو میں بھی میلہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہی حال انٹارکٹیکا کا ہے۔
ReplyDeleteہم پیالہ و نوالہ کو اگلو کی خلوت میں عوام الناس کو متاثر کیے بغیر باہم خلط ملط ہونے کی آزادی ہے۔
ویسے تو انٹارکٹیکا کو پہلی نظر میں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید دوائیں بازو کے نظریات کا غلبہ ہے لیکن درحقیقت اندورن خانہ ہرطرح کی آزادی میسر ہے۔ اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں نے دائیں بازو والوں کے چند اصول و ضوابط کا لحاظ کرتے ہوئے بقائے باہمی کی فضا پیدا کی ہوئی ہے. یعنی اگلو آپ کی ملکیت ہے وہاں بغیر کسی کو متوجہ کیے سب کرتے چلے جائو....
دادوتحسین کے ڈونگرے برسانے والوں اور باراسنگھوں کی کہیں کمی نہیں ہے. خود انٹارکٹیا بھی اس سے محروم نہیں ہے. بس یہاں ان باراسنگھوں کی کھال کچھ موٹی ہوتی ہے.
انٹارکٹیکا میں جھاڑیاں تو نہیں ہاں اگلو وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں اور ان باراسنگھوں نے حالات سے مطابقت پیدا کرنا بخوبی سیکھ لیا ہے. لہذا وہاں یہ جھاڑیوں میں نہیں اگلو میں گھس کر پھنس جاتے ہیں اور اپنے اس فعل پر بائیں بازو والوں سے داد و تحسین ہی سمیٹتے ہیں۔
:mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:
یہ اشاروں کنایوں میں باتیں ہورہی ہیں شائد۔ بہر حال اچھا لکھا ہے۔
ReplyDeleteدلچسپ اور انوکھا انداز، مزید کیا کہوں۔
ReplyDeleteکچھ لوگ ہیں جنہوں نے سفر نامے کاٹ چھاٹ سے تنگ آکر بلاگنگ شروع کی اور بلگستان کو پورنستان، بوگستان، روشنخیالستان بنادیا۔ کیا آپ کہ بھی کوئی نیک ارادے ہیں؟
بہت شکریہ
ReplyDeleteلیکن جناب یہ ساعتیں کچھ زیادہ نہیں ہوگئی