کہیں بھی چلے جائیں، ایک ہی بات کی گردان، نبی مہربان تو رحمت اللعالمین بناکر بھیجے گئے۔ فتح مکہ کے موقع پر سب کو معاف کردیا، کچرا پھنکنے والی بڑھیا پر کبھی سختی نہیں کی، وغیرہ وغیرہ۔ جوابا اگر فتح مکہ کے موقع پر شاتمین رسول کے قتل کے احکامات کا ذکرکیا جائے، ابولہب کے بیٹے عتبہ کا ذکر جس کے لیے رسول خدا نے بدعا کی اللہ اپنے کتوں میں سے ایک کتا تجھ پر مسلط کرے اور جو قبول ہوئی ، ایک درندے نے سفر شام کے دوران اسے چیرپھاڑ ڈالا۔ یا دوسرے واقعات، ان کا ردعمل ایک ہے، ضعیف روایات ہیں، ایک فرقے کی روایات ہیں وغیرہ وغیرہ۔
بی بی سی اردو پر وسعت اللہ خان کے مضمون "کاش انہیں بھی کوئی ضیاء مل جائے" کی اشاعت کے بعد تو لگتا ہے کہ ان کے تن مردہ میں جان پڑگئی ہے۔ یارلوگ ہر جگہ کاپی پیسٹ کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں اور مخالفین کو اسے پڑھنے کے مفت مشوروں سے بھی نواز رہے ہیں۔ اس کو پڑھنے کے بعد اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ نام نہاد روشن خیال اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے ہر طرح کے ہتکنڈوں کو جائز سمجھتے ہیں۔ ویسے تو اس مضمون میں درجن بھر مسلم ممالک میں توہین مذاہب کے قوانین کو انتہائی مبہم انداز میں بیان کرکے آرٹیکل 295 سی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن مجھے تو دو ممالک ایران اور سعودی عرب کے ذکر پربڑی حیرت ہے۔
ایران میں توہین رسالت کے تمام مقدمات اسلامی انقلابی عدالت میں چلائے جاتے ہیں جو چند گھنٹوں کے ٹرائل کے بعد ہی فیصلہ سنادیتی ہے اور سپریم لیڈر اسے منظور کرتا ہے۔ اس کے بعد کوئی در نہیں جو کھٹکھٹایا جاسکے۔ اگر توہین رسالت اور توہین مذاہب پر ایران میں دی جانے والی سزائوں کے اعداد و شمار بیان کروں تو شاید یہ روشن خیال خوف کے مارے پلنگ کے نیچے جا گھسیں۔ رہی بات سعودی عرب کی تو وہاں شرعی قوانین نافذ ہیں اور توہین رسالت ارتداد کے زمرے میں آتا ہے جس پر حد جاری ہوتی ہے جس کی سزا موت ہے۔
یہ بیچارے ضیاء کے سحر سے ہی باہر نہیں نکل پاتے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 295-سی ضیاء کی دین ہے، اوئے عقل کے اندھوں، اسلام کا آرٹیکل 295-سی اللہ نے چودہ سو سال پہلے اپنی کتاب میں یوں اتارا کہ:
اگر منافقین، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے ، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔ ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے۔ یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے ، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے [سورۃ احزاب]۔
تو دوستو ایران اور سعودی عرب کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کے بعد کیوں نہ یہ دعا کی جائے کہ اے اللہ تو ہمیں بھی کسی خمینی سے نواز دے کیوں کہ اس معاملے میں اب روشن خیال بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ لیکن یاد رہے اس کے بعد ان اچانک سے بن جانے والے اخلاقیات کے ٹھیکداروں کو بھی اخلاقیات کا مجسم نمونہ بننا پڑجائے گا۔ کیا زبردست نظارا ہوگا۔ ہرطرف سیاہ برقوں کی بہاریں ہونگیں۔ کیوں کہ امام خمینی نہج البلاغہ میں نقل کیے گئے حضرت علی کے اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ "انکے مرد بیغیرت ہیں جن کی عورتیں پردہ نہیں کرتیں۔" :wink: اور پاسبان انقلاب ان سب بھائیوں اور آپائوں کی فیس بک کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھ رہے ہونگے۔ کسی قانون کو کالا قانون کہنا درکنار سپریم لیڈر کے خلاف زبان درازی پر جب پکڑے جائیں گے تو لگ پتہ جائے گا۔
اے کاش ہمیں بھی کوئی خمینی مل جائے۔۔۔۔
وہ جی ابھی تک یہ بھی پتہ نہیں چل سکا کہ
ReplyDeleteجس ‘دوست‘ کے ساتھ گورنر صاحب کھانا کھانے اور ‘ملنے ‘ آئے تھے
وہ کون تھا۔۔
شاہ ایران کے آخری دور والے ایران اور اس وقت کے پاکستان میں مشابہتیں الارمنگ ہیں۔
ویسے بھی خمینی کے آنے سے ہمیں تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں
پنجابی میں کہتے ہیں کہ
جناں کھادیاں گاجراں ٹڈھ انہاں دے پیڑ
یعنی جو گاجریں کھائے گا پیٹ میں درد بھی اسی کے ہوگا
تے سانوں کیہہ ۔۔۔ خمینی آئے یا فرانس کا انقلاب
لمیاں تو انہوں نے اسی طبقے کو پانا ہے جو موجیں کررہا ہے
[...] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed. UrduFeed said: کاش ہمیں بھی کوئی خمینی مل جائے! http://nblo.gs/cTAs1 [...]
ReplyDeleteروشن خیالوں کا سورہ لہب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا نعوذباللہ اس کو قرآن سے نکال دینا چاہیے؟
ReplyDeleteاچھا توا لگايا آپ نے ان حضراتِ خوش اخلاق کا
ReplyDeleteجعفر صاحب
وہ گاجريں نہيں کھاتے پزا اور برگر کھاتے ہيں ۔ گاجريں تو مجھ جيسے اُجڈ کھاتے ہيں
اعظم بھائی!
ReplyDeleteیہ تو صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے. میرا خیال ہے کہ معاشرے کو ذہنی طور پر ایک مختلف صوتی لہر پر ٹیون کر دیا گیا ہے. لوگ بڑی معصومیت سے پوچھ رہے ہیں کہ جب اسلام امن اور سلامتی کا مذھب ہے اور نبی کریم صلی الله علیہہ وسلم نے اپنے دشمنوں کو معاف بھی فرما دیا تھا تو اب توہین رسالت کی سزا کا کیا جواز بنتا ہے. مجھے عوام الناس کے جذبات کا پتا ہے لیکن افسوس صرف اس بات کا ہے کہ بہت سارے پڑھے لکھے لوگ اس معاملے میں کنفیوزن کا شکار ہو چکے ہیں .میرے نزدیک دجال کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ جن باتوں پر امت اپنی پوری تاریخ میں متفق رہی ہے اسے پراگندہ خیالی کا شکار کر دیا جائے. اور اس کام کے لئے جاوید غامدی اور اس جیسے کرائے کے عالموں کو اوربھرتی کر لیا گیا جو اسلام کا ایک روشن خیال ورڒن پیش کرتے ہیں.ایک چومکھی جنگ ہے جو مسلمان معاشروں پر مسلط کر دی گئی ہے.
ایک سمت الیکڑانک میڈیا ہے ، دوسری سمت بلاگنگ کی دنیا اور بے حساب کرائے کے ٹٹو ہیں اور تیسری سمت عالمی پروپگینڈا مہم ہے جو دین کے متبادل آپکو سوچنے کے لئے خیالات دیتی ہے ، پڑھنے کے لئے کتب دیتی ہے ،آپ کیا کھائیں گے کیا پہنیں گے اس کا فیصلہ وہی کرتی ہے وہی آپکو بتاتی ہے کہ اخلاقیات کی بنیادیں کیا ہوتی ہیں...ایک طرف اظہار رائے کو ہتھیار بنا کر ناموس رسالت پر ڈاکے ڈالتی ہے تو دوسری طرف انسانی جان کی حرمت کو بنیاد بنا کر شاتم رسول کو تحفظ دیتی ہے. اور چوتھی سمت سے اسلامو فوبیا کے زریعے آپکو ہمیشہ دین کے معاملے میں انتہائی درجہ کا معذرت خواہانہ رویہ اپنانے پر مجبور کرتی ہے اور ہمارا رویہ اس مسکین دکاندار جیسا ہو گیا ہے کہ جس کا امیر گاہگ اس سے اسکی خریدی ہوئی چیز کی سخت نکتہ چینی کر رہا ہو اور دکاندار شرمندگی سے کہ رہا ہو کہ " صاحب معاف کر دیجیے ...میں ابھی آپکو اس خراب چیز کو تبدیل کر کے نئی اور بہترین چیز دے دیتا ہوں.."
صرف خمینی سے کام نہیں چلے گا یہاں تو آپکو پورا معاشرہ الٹ پلٹ کرنا پڑے گا..سارے نظام کو اسکے چلانے والوں سمیت اکھاڑ کر پھینکنا ہو گا...روشن خیالوں کے لئے خاص قسم کے کیمپ بنے پڑیں گے....اور روشن خیال دانشوروں کو عبرت کی مثال بنانا پڑے گا. صرف صفائی سے کام نہیں چلے گا آپکو پورا گند ایک جگا جمع کرنا ہوگا اور بچے کچھے معاشرے کو دکھانا ہوگا کہ جناب! گند ایسی ہوتی ہے لہٰذا ایسا ہونے سے بچو..
آپکے اس اصرار پہ میں نے وکی پیڈیا کو چیک کیا. وہاں بھی یہ لکھا ہے کہ ایران میں توہین رسالت کا الگ سے کوئ قانون موجود نہیں. کوئ ایک سزائ موت عمل میں نہیں آئ÷ آج تک کسی ہجوم نے اس بات پہ کسی ایک شخص کی جان نہیں لی. شاید وکی پیڈیا والوں کے ایران سے خاص مراسم ہونگے. سعودی عرب کو چیک کرنے میں آپ وقت لگا لیں یا آپکی بات پہ آمنا و صدقنا کہنے والے.
ReplyDeleteآگے کی کہانی یہ ہے کہ ملتان میں امام مسجد اور اسکے بیٹے کو توہین رسالت پہ عمر قید کی سزا. تفصیلات اس لنک پہ پڑھیں. ڈان کا ہے. اردو اخباروں میں اس خبر کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی.
http://epaper.dawn.com/ArticleText.aspx?article=12_01_2011_001_005
آپائووں کو رنگ برنگے برقعے پہنانے سے پہلے آپ بھی سوچ لیں . کہیں آپ میلاد کی محافل کے خلاف عیدہ رکھنے والوں میں سے تو نہیں. پھر تو آپکی خیر نہیں. ہم تو برقعہ پہ ہی بچیں گے اور آپکو عقیدہ بدل کر بھی جان بخشی نہ ملے گی. آپکے اس طرح گذر جانے پہ افسوس ہو گا کہ جب آپا نے برقع پہنا تو تمنا رکھنے والے ہی نہ رہے.
ایران کو وکی پیڈیا پہ دیکھنے کے لئے لنک یہ ہے.
ReplyDeletehttp://en.wikipedia.org/wiki/Blasphemy_law_in_Iran
محترمہ مضمون کا دوبارہ بغور مطالعہ کریں. میں نے یہ لکھا ہے کہ ایران میں توہین رسالت کے مقدمات اسلامی انقلابی عدالت میں چلائے جاتے ہیں. ان عدالتوں کے دائرہ کار اور اختیارات کا مطالعہ کریں. وکیپیڈیا کے اس پیج پر ڈھنڈھنے سے بھی کہیں نظر نہیں آیا کہ کبھی کوئی سزائے موت نہیں ہوئی. بقول روشن خیالوں کے ایران میں توہین رسالت کا قانون نہیں لیکن پھر بھی وکیپیڈیا لکھتا ہے کہ ایرانی بلاسفمی لاز اقلیتوں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں. سبحان اللہ...
ReplyDeleteرہبر ایران آیت اللہ خمینی کے سلمان رشدی کے خلاف موت کے فتوے کے بعد بھی اگر آپ کو کوئی خوش فہمی ہے تو پھر کیا کہا جائے.
.
آگے کی کہانی یہ ہے کہ آپ بے فکر رہیں. ہم عالم بالا سے یہ خوشکن مناظر دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کررہے ہونگے... :lol:
سعودی عرب اور ایران کے قانون کے مطالعے کیلئے کوئی عینک ہی بتا دیتے۔
ReplyDeleteجناب عینک لگانی نہیں ہے، اتارنی ہے روشن خیالی کی تب ہی نظر آئے گا...
ReplyDeleteکچھ فائدہ نہیں ہے جی، انھوں نے سورۃ لہب کو ان ایکٹو کردینا ہے کہ یہ حکم تو خاص بندے کے لیے ہے۔۔
ReplyDeleteاوف اللہ ۔۔۔
ReplyDeleteعنیقہ ناز کو خمینی میاں کا وہ فتوا آج تک نہ ملا جس میں موصوف نے سلمان تاثیر معاف کرنا سلمان رشدی کے قتل کا پروانہ جاری کیا تھا۔
ویسے دو چیزیں ہیں ایک تو یہ کہ کسی مظلوم کو سزا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ گستاخ کو بھی سزا نہ ہو
اگر صورتحال نمبر ایک ہے تو چلے گا لیکن اگر اگر صورتحال نمبر دو ہے تو اسکا مطلب ہے گستاخ رسول کے فعل سے دلی ہمدردی ہے یا اسکے جرم کو کم سمجھا جارہا ہے اسی لئے کم سزا کا مطالبہ ہے۔
ہمارا یعنی مسلمانوں کا معاملہ کیا یے۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ و وسلم کی شخصیت ہمیں ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے۔ اس لئے اگر کوئی بدبخت خاکم بدہن انکی شان میں گستاخی کرے تو ہم اسے دنیا کا سب سے بڑا جرم سمجھتے ہیں قتل، فساد بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ پوری دنیا کو ایٹم بم مار کے تباہ کردیا جائے اور اس لئے کم از کم قتل کی سزا برحق سمجھتے گے۔
اگر قتل سے بڑی کوئی سزا ہوتی تو ہم اسکا مطالبہ کرتے۔ یہ عقلی اور منطقی مطالبہ ہے جسکے لئے قرآن و حدیث سے کسی دلیل کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ جنکو یہ سیدھی سادھی بات بھی سمجھ نہ آئے وہ یا الو کے پٹھے ہیں یا گمراہ اور بدین یا کم عقل اور بے بیوقوف۔
ایران کے بارے جو بات بی بی سی اردو ایدیشن کے وسعت اللہ خان اور انکے فرمائے کو پاکستان کے عوام کی خواہشات اور پاکستان کے قوانین پہ فضیلت دیتے ہوئے گول کی ہے وہ رشدی کو شاتم رسول ہونے یعنی نبی کریم صلٰی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گستاخی کرنے پہ سزائے موت دینے میں دیگر کے ساتھ ایران سب سے ذیادہ سرگرم رہا ہے پھر بھی قربان جاؤں نام نہاد روشن خیالوں کے یہ ہمیں یہ بتانے چل پڑتے ہیں کہ ہم نے سرکار نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم کی ناموس رسالت پہ قانون کیوں بنایا، اب لکیر کے فقیروں کو کیسے سمجھایا جائے کہ ناموس رسالت کے بارے قانون تو چودہ سو سال پہلے قرآن کریم میں خود اللہ تعالی نے بنا بیجھا تھا۔ اس قانون کا نام دوسو پچانوے سی نہ ہوتا تو کیا شاتموں کو سزا نہ ملتی؟۔ غازی علم دین شہید کے دور میں ایسا قانون نہیں تھا تو کیا وہ ہندہ مہاجن راجپال اپنے انجام اور توہین رسالت کی سزا سے بچ گیا تھا؟۔ قانون تو چودہ سو سال سے کچھ زئد سال قبل، قرآن کریم میں خود اللہ تعالٰی نے بیان فرما دیا تھا جسے نام نہاد روشن خیال کبھی مان کے نہیں دیں گے اور جان بوجھ کر حیلے بہانوں سے دین کے بارے کم علم رکھنے والے مسلمانوں کو ورغلاتے رہیں گے۔ یہ طبقہ چاہتا ہے کہ ریاستی لیول پہ اسطرح کا کوئی قانون نہ ہو اور مسلمان انصاف کے لئیے خود ہی قانون کو ھاتھ میں لے لیں۔ جب یوں ایک آدھ مرتبہ ہوگا تو پھر ایک رسم چل نکلے گی اور ملک پاکستان میں ریاست تہس نہس ہو کر رہ جائے گی۔ پھر نام نہاد روشن خیال طبقہ ساری دنیا کو اپنے شر انگیز پروپگنڈے سے یہ جتلائے گا “دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان ایسے گنوار، اجڈ اور قاتل وھشی لوگ ہیں۔ اگر باقی دنیا اس ملک میں کوئی سچا ہمدرد ہے تو وہ ہم دل ماشاد روشن خیال ہیں۔” یوں انھیں ہل من مزید کے ساتھ امریکہ یوروپ کے ویزے پکے ہونے کا مکمل یقین ہے۔
ReplyDeleteضرورت اس امر کی ہے کہ توہین رسالت نامی قانون پہ سختی سے عمل کیا جائے اور عدالتی نظام کو فول پروف بنایا جائے جس میں غلطی کا احتمال نہ رہے۔ اور شاتموں کو فوری طور پہ کیفر کردار پہنچا کر اسکی مناسب تشہیر کی جائے تانکہ شرارتی لوگ عبرت پکڑیں۔ ایک آدھ فیصلے کے بعد شاید ہی کوئی بد بخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شان میں گستاخی کرنے کا سوچا۔ یوں امریکا کی لے پالک این جی اوز اور پاکستان کے نام نہاد روشن خیال طبقے کو اس قانون سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے ہونے کا جواز دینے کے لئیے پاکستان کی کوئی اور خامی یا کمزوری ڈھونڈیں گے جہاں یہ اپنی شکم پُری کے لئیے شور مچا سکیں سکیں۔
اگر رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وسلم) کی شریعت کے کسی قانون کو کالا قانون کہنا روشن خیالی ہے، تو ایسی ملعون روشن خیالی شریعتِ رسول کے باغیوں ہی کو مبارک ہو۔
ReplyDeleteروشن خیالی کے خناس کا کیا کیا جائے؟
ReplyDeleteاقتباس.
ReplyDeleteکہیں بھی چلے جائیں، ایک ہی بات کی گردان، نبی مہربان تو رحمت اللعالمین بناکر بھیجے گئے
تبصرہ: اس میں کیا غلط ہے اور اس کی تکرار میں کیا مضائقہ ہے.. اور رسول کی ذات سے قتل و غارت گری منسوب کرنے میں کیا حکمت ہے؟
خمینی اگر اسی مذہب کا آگیا جو خمینی کا اصل مذہب ہے تو آپ کے بلاگ پر جوش و ولولہ سے سرشار اکثریت تو اسے مسلمان ہی نہیں مانے گی روشن خیالوں کا نمبر تو بعد میں آئے گا.. اگر خمینی تاریک خیال طالبانی جماعت کا آگیا تو کیا روشن خیال کیا قادری اور کیا پادری.. اور اگر خمینی اصلی قادری آگیا تو روشن خیال کی تو بعد میں سوچے گا پہلے اس بات کی فکر کرے گا کہ کس طرح کرہ ارض کو دیوبندیوں اور اہلحدیثوں سے پاک کرلوں... کہنے کا مقصد یہ کہ جن کے گھر شیشے کے ہوں وہ پتھر پھینکنے کے ورلڈ کپ میں حصہ لیتے بڑے مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں..
یہ نام نہاد روشن خیال۔۔۔
ReplyDeleteہم بچپن میں ایک کمرے میں رہتے تھے۔
درمیان میں بوری کی پارٹیشن لگا کر۔
ایک طرف ڈنگر اور دوسری طرف نیم ڈنگر۔
تو روشن خیال بھی درمیان بوری کی پارٹیشن لگانے پر بضد ہیں۔
لیکن ڈنگر اور نیم ڈنگر کون؟
محترم آپ کو کسی شدید غلط فہمی نے گھیر رکھا ہے کہ لوگ رسول کی ذات سے قتل و غارت گری منسوب کررہے ہیں، یا شاید خوش فہمی کہ رسول کی ذات کی عظمت کا صحیح ادراک صرف ہمیں ہی ہے۔
ReplyDelete.
حضور آپ کے تبصرے سے تو مجھے قیام پاکستان کے فورا بعد کا زمانہ یار آرہا ہے کہ جب اسلامی دستور کا مطالبہ سامنے آیا تو یارلوگ کہنے لگے کہ کون سی فقہ کا نظام نافذ کریں، شیعہ سنی، دیوبندی یا بریلوی یا اہلحدیث؟ غضب خدا کا کہ یہ مولوی بھی بڑے تیز ہیں سب نے مل بیٹھ کر 20 نکات مرتب کیے اور اس وقت کے روشن خیالوں کے منہ پر دے مارے کہ یہ لو۔ ان پر سب متفق ہیں۔ :lol:
تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ حضرات اس بارے میں فکر مند نہ ہوں۔ جو اونٹ پالتے ہیں وہ اپنے گھر کے دروازے بھی بڑے رکھتے ہیں۔
اس کے لیے ڈاکٹر جواد احمد خان سے رابطہ کریں. :mrgreen:
ReplyDeleteجناب عالی سوال کا جواب دے تو دوں، لیکن اس سے اندیشہ ہائے نقص امن ہے. :twisted:
ReplyDeleteمجھے آپ کے تبصرے سے ایسا گمان ہوا کہ گویا رسول اللہ کے رحمت العالمین ہونے پر مسلسل اصرار آپ کو پسند نہیں آرہا کیونکہ یہ کہنا کہ جہاں چلیں جائیں یہی گردان ہے ایک طریقے سے ناگواری کا اظہار معلوم ہوتا ہے..
ReplyDeleteباقی بحث تو عامیانہ سی ہے جس کو یہیں ختم کرتے ہیں کیونکہ مزے لینے والے آن پہنچے ہیں.. زمینی حقائق آپ کے بھی سامنے ہیں اور میرے بھی کہ فرقہ پرستی روشن خیالوں چھوڑی کوئی بڑ نہیں ایک بہت بڑا ناسور ہے.
جناب میری کسی تحریر سے کسی مخالف کو بھی ایسا شائبہ ہوتو یہ میرے لیے باعث شرم ہے۔ میں اس پر کیا کہوں کہ مضمون پر دوبارہ غور کریں.
ReplyDeleteمجھے آپ کی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فرقہ پرستی بہت بڑا ناسور ہے۔ لیکن کیا اس سے ختم کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ مخالفین کو جاہل، اجڈ، گنوار اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جائے۔ طنز و تشنیع کے تیر برسائے جائیں۔ ان مسائل میں ٹانگ اڑائی جائے جن کا اس ملک کی غالب اکثریت سے کوئی تعلق نہیں، اور جس معاملے میں وہ کسی چیز کو خاطر میں نہ لاتے ہیں... معاف کیجیے گا شدت پسندی کے جواب میں شدت پسندی سے معالات ھل نہیں ہوتے. ہاں اس اقلیتی ٹولے کے لیے مشکلات مزید بڑھیں گی...
ہوپ اور چانس کا اچھا کمپیٹیشن چلرہا ہے جی ۔ آپ شائد ہوپ والی سائڈ پر ہیں اور چانس والوں کی کلر فل آفرز جاگتی آنکھوں سے دکھائی بھی دیتی ہیں ۔ جیت چاہے جس کی بھی ہو برائی میں سے برائی اور اچھائی میں سے اچھائی نے تو کم ہونا ہی ہوتا ہے جی ۔
ReplyDeleteرائٹ ہیز سمتھنگ رونگ اینڈ رونگ ہیز سمتھنگ رائٹ ۔
http://ejang.jang.com.pk
ReplyDeleteعبداللہ صاحب، آپ کا تبصرہ میں نے ایڈیٹ کردیا ہے۔ ادھر ادھر سے لنک پیسٹ کرنے اور نعرے لکھنے کے بجائے، تحریر پر تبصرہ کیا کریں۔ وقاراعظم
صاف صاف کہو کہ اپنی جیسی ذہنیت رکھنے والے جواں مرد فدائی کے لیئے پھانسی کا لفظ ہضم نہیں ہوا!
ReplyDeleteجناب عالی۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ میں اس تحریر کے موضوع سے کچھ ہٹ جاوں تو براہ کرم معاف فرمایے گا۔۔۔
ReplyDeleteمیری عرض اور درخواست سب قارئین سے یہ ہے کہ کوئی اس بندہ ناچیز کو “روشن خیالی“ کا مطلب ہی سمجھا دے۔۔۔ میں جو قاصر ہوں۔۔۔
اگر روشن خیالی کا مفہوم، شرعی قوانین کو توڑ موڑ کر، اپنے الفاظ میں سمجھنا ہے اور پھر ان کا مقابلہ دور جدید کی ضروریات سے کرنا ہے تو میں لعنت بھیجتا ہوں روشن خیالی پر۔۔۔
اگر روشن خیالی کا مطلب قرانی آیات اور احادیث مبارکہ کے بنیادی مفہومات کو ہی بدل دینا ہے اور انیں بطور دلیل کسی بے مقصد بحث میں دینا ہے تو میں لعنت بھیجتا ہوں روشن خیالی پر۔۔۔
اگر ناموس رسالت اور دیگر شرعی اصطلاحات میں “روشن خیالی“ کے نام پر ردوبدل کرنا ہے تو میں لعنت بھیجتا ہوں روشن خیالی پر۔۔۔
اب سلمان تاثیر صاحب اور ملک ممتاز کے قصے کو بھول جائیں اور اب نیا بیان ان کی بیٹی یا بیٹے کا سننے کو ملا کہ ان کا والد تو احمدیوں کو بھی غیر مسلم قرار دینے کے خلاف تھے۔۔۔ تو اگر یہ ان کی روشن خیالی تھی۔۔۔ تو میں لعنت بھیجتا ہوں روشن خیالی پر۔۔۔
اور میری سب لعن طعن جو میں نے روشن خیالی کو دی ہے وہی لعن طعن میں ان حضرات کو بھی دوں گا جنہوں نے قران اور احادیث میں سے صرف وہی دلائل اکھٹے کیے ہیں جن میں قتل یا مذمت کو بیان کیا گیا ہے اور یہ حضرات بغیر ان آیات یا احادیث کی شان نزول اور تفسیر پڑھے بغیر اپنے فتوی دینے شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
اب خمینی ہو یا ضیا۔۔۔ جب تک ہم میں ہی عقل نہیں آئے گی، صحیح یا غلط کا شعور نہیں ہو گا تو کوئی بھی بندہ لیڈر بن کے آ جائے۔۔۔ ہماری حالت نہیں بدلنے والی۔۔۔ ہم ویسے ہی کھپتے رہیں گے جیسے آج کھپ رہیں ہیں۔۔۔ (ازراہ مزاح عرض ہے کہ یہاں کھپے کا مطلب زرداری صاحب والا کھپے نہیں ہے بلکہ پنجابی کے ایک لفظ کا زکر ہے)۔۔۔
والسلام۔۔۔
بھائی عبداللہ!!!
ReplyDeleteبغیر کسی وجہ کے مخالفت اچھی بات نہیں....آپ کیوں خواہ مخواہ روشن خیال بننے کی کوشش کرتے ہیں یہ جانتے ہوۓ کہ روشن خیال اپنے رویے میں دین سےاانتہائی بیزار ہوتا ہے...
ایسا جواں مرد فدائی کوئی تمھیں بھی ٹکرائے پھر پوچھیں گے تم سے تمھارے تاثرات۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ReplyDelete:)
عمران بھائی جس پر آپ نےلعنت بھیجی ہے۔
ReplyDeleteیہی تو اصلی روشن خیالی ہے۔
ہم اسی لئے ہی تو بارہ سنگھے کے شکار کی تلاش میں رہتے ہیں۔آہو۔
ڈاکٹر صاحب، مرد ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر....
ReplyDeleteجناب ہوپ کو امید کہیں اور چانس کو موقع تو میں یقینا امید کی طرف ہوں. درخت کی جٹریں اگر دھرتی میں مضبوطی سے پیوست ہوں تبھی وہ حرا رہتا ہے. بے شک خزاں بھی آتی ہے لیکن خزاں کے بعد بہار کی امید ہمارے حوصلوں کو ایک ولولہ تازہ دیتی ہے.
ReplyDeleteدوسری طرف چانس والوں کو، موقعے کے متلاشیوں کو ابن الوقت کہا جائے تو کیسا رہگا؟
اچھائی سے اچھائی کے کم ہونے کا فلسفہ اوپر سے گذر گیا. ریاضیات کا بھی اصول ہے ++ = + اور - - = + تو برائی بڑھ جائے تو اچھائی کی توقع رکھ سکتے ہیں لیکن اچھائی یا خیر سے برائی کی توقع کیسے؟ :roll:
جواد خان یہ محض آپکی کم فہمی ہے کہ روشن خیال دین بیزار ہوتے ہیں ذرا کوئیں سے باہر نکلیں تو حقائق کا ادراک ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ReplyDeleteآج کے روزنامہ ایکسپریس میں یہی کالم عبّاس اطہر نے "کیا ہم دنیا بھر کے مسلمانوں سے افضل ہیں" کے عنوان سے لکھا ہے...معاف کیجیے گا وقار بھائی میں سمجھ نہیں سکا کہ اس حرکت کا کیا مطلب ہے؟ اسے سرقہ کہیں گے یا روشن خیال تعاون؟
ReplyDeleteارے واہ ابھی دیکھا، اس نے تو حد کردی، جوں کا توں چھاپ دیا۔ میں نے کہا نا ایسا لگتا ہے کہ کوئی گیدڑ سنگھی ہاتھ آگئی ہے انکے۔ لا علم لوگوں کو غلط فہمیوں میں مبتلا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں یہ۔ افسوس کہ پرنٹ میڈیا ہویا الیکٹرونک انہی باطل کے ہرکاروں کےتصرف میں ہے۔ میرے خیال سے یہ سرقہ نہیں ہے، روشن خیال تعاون ہے۔ :D
ReplyDeleteلو اپنی جیسی ذہنیت رکھنے والے اپنے بھائی کے بارے میں پڑھ لو،سارے عاشق رسول ایک جیسے ہی ہوتے ہیں اور ایک جیسا ہی سوچتے ہیں!
ReplyDeletebbc.co.uk/urdu
عمران اقبال صرف دو سوالوں کا جواب دیں قرآن کتنی بار ترجمعہ اور تفسیر کے ساتھ ختم کیا ہے اور صحیح احادیث کی کتنی کتب مکمل ختم کی ہیں؟؟؟؟؟
اچھائی اپنی جگہ پر اچھائی اور برائی اپنی جگہ پر برائی ۔ اچھائی برائی نہیں ہے اور برائی اچھائی نہیں ہے ۔ پاسیبل ہی نہیں ۔
ReplyDeleteاچھائی زیر کرے برائی کو اچھائی سے یا برائی زیر کرے اچھائی کو برائی سے ۔ پاسیبل ہی نہیں ۔
اچھائی زیر کرے برائی کو برائی سے تو اچھائی سے اچھائی کم ۔
برائی زیر کرے اچھائی کو اچھائی سے تو برائی سے برائی کم ۔
ویسے +- = - اور -+ = - کا زکر نہیں کیا تھا آپنے ۔
چلو بھئی سارے مفتی عبد اوم سے سرٹیفیکیٹ لو۔۔۔
ReplyDeleteویسے یار، الطاف بھائی سے بھی یہ امتحان لینے کا سوچا کبھی جو جھوم جھوم کر اور لہک لہک کر الٹی سیدھی تلات کرتے ہیں۔ :mrgreen:
عبداللہ: جونکہ آپ نہایت ہی سچے، کھرے اور پاکباز انسان ہیں اس لیے آپ سے درخواست ہے کہ آپ اللہ تبارک تعالی سے ہمارے لیے اور ہمارے مسلم امت کے لیے دعا کریں۔۔۔
ReplyDeleteتمھارے مومن ہونے کی پہچان تو ہو ہی گئی ہے کہ دوسرون کے لکھے کو اپنی مرضی سے بدل دینا دھوکا دہی چوری اور مکاری کے زمرے میں آتا ہے!
ReplyDeleteاور یہ بی بی سی کی پوسٹ کے لنک کو خراب کر کے تم جیسے شتر مرغ یہ سمجھتے ہیں کہ انہون نے ساری دنیا سے اسے چھپا لیا واقعی ایسے فدائی کی موافقت تم جیسے نہ کریں گے تو پھر اور کون کرے گا :lol:
صاحب آپ سے ہزار بار کہا ہے کہ ادھر اُدھر سے خواہ مخواہ کے لنک پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ جو لنک آپ پوسٹ کرتے ہیں وہ قارئین کی نظروں سے گذر چکے ہوتے ہیں۔ آپ کی اس طرح کی حرکتوں سے یہی لگتا ہے کہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔ :wink:
ReplyDeleteتو لنک پوسٹ کرنے سے احتراز کریں۔ شدید ضرورت کے تحت ہی ایسا کیا جاسکتا ہے۔ تحریر یا موضوع پر تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہار خیال کریں اور چلتے بنیں۔ اس نصیحت کو پلے باندھ لیں۔
اوئے وقار اعظم منہ سنبھال کر بات کرو!!
ReplyDeleteالطاف بھائی کا دادا مفتی تھا۔
یہ مفتی مفتہ خورا والے نہیں ہوتا۔
کیا سمجھے؟
بھتہ خوری کا ڈی این اے وصول کیا دادا سے بھائی نے۔
خبر دار بھائی کو برا کہا۔آہو
یار اس مفتی بارہ سنگھے کو ہی نہ ایڈہاک خمینی بنا دیں؟
ReplyDeleteارے بھائی اتنے معصوم مخلوق پر انسان ہونے کی تہمت لگادی آپ نے. سارے بارہ سنگھے ناراض ہوجائیں گے....
ReplyDeleteاچھا اوپائے ہے. ویسے بھی مفتی بارہ سنگھے کے اہل قبیلہ اب انقلابی ہوگئے ہیں. بلکہ شدید انقلابی. :P
ReplyDeleteکیا انقلاب ہے کہ چل کہ ہی نہیں دیتا۔ کہ صرف بڑے بارہ شنگھا کی زندگی میں ہی آیا ہے۔انقلاب جس کا لیڈر اپنے ذاتی مفادات کے تابع گیر ملکی شہریت حاصل چکا ہے۔ گھاس کھا کھا کر بارہ شنگھا یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پاکستانی عوام انقلاب کے نام پہ بارشنگھاؤں سےگھاس کھا گئے ہیں۔
ReplyDeleteقصور ہمارا نہیں ہے. ہم صرف فاروق دادا سے واقف ہیں. مفتی دادا کے بارے میں ابھی پتہ چلا ہے. معذرت بھئی......
ReplyDeleteہر دًم ، دَمِ واپسیں ہے
ReplyDeleteعزیزو اب فقط اللہ ہی اللہ
(غالب)
یہ عبداللہ نامی بیماری بی بی سی سے متاثرین میں شامل لگتا ہے. ویسے کوئی اس پوچھے کہ آج کل انکا نفسیاتی پیر طالبان کے خلاف باتیں کیوں نہیں کررہا کیا کراچی میں اب طالبانائزیشن ختم ہوگئی ہے؟؟؟
ReplyDelete