چوراہے کے دائیں جانب
کونے پر سنسان گلی کے
کچرا کنڈی دیکھ رہے ہو
اس کے پاس لہو میں لتھڑی
خاک آلودہ، بکھری بکھری
غیر یا اپنا، کون ہے جانیں
آئو دیکھیں اور پہچانیں
نقش مٹا ڈالی گولی نے
رنگت خون میں ڈوب گئی ہے
جیب ٹٹولو، کیا رکھا ہے؟
یہ دو خون سے تر گجرے ہیں
دس دس کے دو نوٹ رکھے ہیں
ہاتھ جو نیچے دبا ہوا ہے
اس کی سخت گرفت میں کیا ہے؟
شاید ہے اسکول کا بستہ
جیب سے یہ کیا جھانک رہا ہے؟
اک پرچہ ہے، خط ہے شاید
ٹوٹی پھوٹی سی اردو میں
رنگ برنگی پینسلوں کے
سب رنگوں سے لکھا ہوا ہے۔۔۔
آج جو بھولے بستہ میرا
کُٹی ہوجائونگی تم سے
ٹافی اور بسکٹ بھی لانا
پیارے ابّو، جلدی آنا۔۔۔۔
ماخذ: ام البنین کا بلاگ
خوامخواہ دل اداس کر دیا.یہ بارہ سنگھے کو پڑھا دو.
ReplyDeleteنہیں تو گھول کے پلا دو.
ویسے تو یہ نظم خود کش بمباروں کا شکار ہونے والون کے لیئے لکھی گئی تھی مگر ہر مقتول کا نوحہ ہے یہ!
ReplyDeleteاگر کوئی میرے دل کی پوچھے تو دل کرتا ہے کہ کراچی میں اب کے کوئی ایسا آپریشن کلین اپ ہو جس میں پنجابی دہشت گرد پٹھان دہشتگرد سندھی دہشت گرد بلوچی دہشتگرد اور اردواسپیکنگ دہشت گرد سب ملیا میٹ ہوجائیں،اورکراچی کیا پورے پاکستان مین سکون اتر آئے!
میرے اور میرے گھر والوں کی انکھیں جس طرح حیدر رضا کے لیئے نم ہیں اسی طرح میاں افتخار حسین کاعزم اور حوصلے سے منور چہرہ دیکھ کر بھی نم ہوجاتی ہیں اور صفوت غیور تو جب جب ٹی وی پرنظرآتے ہیں خون رلا کر ہی جاتے ہیں،
یا اللہ میرے ملک کو انسان کے بھیس میں چھپے شیطانوں سے نجات عطا فرما آمین یا رب العالمین
عبد اللہ بھائی یہ ہوئی نا بات.
ReplyDeleteآمین ثم آمین
سچ بات یہ ہے کہ میاں افتخار حسین کے جوان بیٹے کی موت پر میرا دل بھی اداس ہے لیکن صفوت غیور صاحب اللہ انکی مغفرت فرمائے مشکوک آدمی تھے کہ 1200 ایف سی والوں کے بے روزگار کیا، گورنر اور شیر پاو کی رشتہ داری کی بدولت گریڈ 17 سے 19 تک پہنچ گئے. بہرحال وہ بہت اچھے بھی ہوں لیکن وہ لڑ رہے تھے اور لڑائی میں تو ایسا ہوتا ہے!
ReplyDeleteاللہ ہم سب پر رحم کرے
ReplyDeleteہیں بڑے تلخ مرے ملک کے حالات مگر
ReplyDeleteمیں وہ مٹی ہوں جو سونے کو اگل سکتی ہے
بس بدل ڈالو چلن اپنے جنوں کا لوگو!!
اک اسی بات پہ تقدیر بدل سکتی ہے.
بس جی ہمارا دل اداس تھا، سوچا کہ اوروں کو بھی اداس کریں. ویسے آپ کی خواہش پوری ہوگئی ہوگی اب تک....
ReplyDeleteعبداللہ، یار آج تو تم نے بڑی عقل مندی کی بات کی ہے. اللہ تمہاری دعائوں کو قبول کرے. آمین....
ReplyDeleteفرحان: ملکی حالات کی مناسبت سے بہت زبردست قطعہ ہے. واقعی اپنے چلن کو بدل ڈالنے کی دیر ہے. دلوں میں بسے نفرت اور بغض و عناد کو محبت میں بدل ڈالنے کی دیر ہے.
ReplyDeleteان کے تیور بھی نہ بگرے بات بھی اپنی بنی
ReplyDeleteحال ہم کہتے رہے وہ داستاں سمجھے گئے
اب بھی وقت ہے کہ ہم بدل جائیں
ReplyDeleteاچھی نظم ہے!
ReplyDeleteنغمہ سحر صاحبہ، تُسی وی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نئی دیندے او، ہیں جی.
ReplyDelete:D
Sir, Tussi Punjabi bid comes
ReplyDeleteآپ کا بلاگ تو کافی شاندار ہے........جناب
ReplyDelete